کابل /اسلام آباد ، 25/نومبر (آئی این ایس انڈیا)افغانستان کے بامیان میں ہونے والے دو بم دھماکوں میں ایک درجن سے زائد افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ حملے ایسے وقت ہوئے جب عالمی برادری نے جنگ زدہ ملک میں حالات کی بحالی کے لیے اربوں ڈالر کی امداد کا وعدہ کیا ہے۔افغانستان کے صوبے بامیان میں منگل کے روز سڑک کے کنارے رکھے دو بم دھماکوں سے کم ازکم 14 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے۔ مقامی حکام کے مطابق یہ دھماکے بامیان شہر کے مرکزی بازار میں ہوئے۔ صوبے بامیان کے پولیس سربراہ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 12عام شہری اور دو ٹریفک پولیس کے اہلکار شامل ہیں۔ ان دھماکوں میں 45 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔افغانستان کا صوبہ بامیان ملک کی دور دراز پہاڑیوں کے مرکز میں پڑتا ہے اس لیے جنگ زدہ افغانستان میں بامیان دیگر علاقوں کے بہ نسبت کافی محفوظ سمجھا جاتا ہے۔ حکومت کے ساتھ بر سرپیکار طالبان نے ان حملوں میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔ 2001 میں امریکا نے افغانستان پر حملہ کرکے طالبان کی حکومت کو معزول کر دیا تھا اور تبھی سے طالبان باغی کابل حکومت کے ساتھ بر سر پیکار ہیں۔افغانستان میں اسلامی شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ (داعش) بھی کافی سرگرم ہے اور طالبان کی اتحادی ہے تاہم اس نے بھی ابھی تک ان حملوں کی ذمہ داری نہیں لی ہے۔ ماضی میں داعش اس صوبے اور شہر میں کئی بار شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والی ہزارہ برادری کو نشانہ بنا چکی ہے۔افغانستان میں حالیہ مہینوں میں ہونے والے متعدد ہلاکت خیز حملوں کی ذمہ داری بھی داعش نے قبول کی ہے۔ امریکا نے اس برس کے اوائل میں ایک میٹرنیٹی ہسپتال پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری بھی اسی گروپ پر عائد کی تھی جس میں 24 نو زائیدہ بچے اور ان کی مائیں ہلاک ہوگئی تھیں۔